Wednesday, July 14, 2010

یہ محبان صحافت....نقش خیال…عرفان صدیقی

اونٹ کی کوئی کل سیدھی ہو نہ ہو، وہ بہرطور کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ ہی جاتا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے بطن سے کسی بھی وقت ایک نئی قرارداد جنم لے سکتی ہے۔ ایسا اس لئے بھی ضروری ہے کہ بقول سید مودودی، غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی ضرور انڈے بچے دیتی اور بسااوقات تو دیتی ہی چلی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ایسی کثیر العیال غلطیوں کی تعداد حدوشمار سے باہر ہے۔ ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر اور نامور صحافی نے فون کرکے تقریباً سرزنش کے انداز میں پوچھا۔ ”تم نے یہ قرارداد پڑھی بھی ہے؟“ میں نے تسلیم کیا کہ میں نے قرار داد کا بغور مطالعہ نہیں کیا تھا۔ اب یہ متن میرے سامنے ہے لیکن میں اپنی اس رائے پر قائم ہوں جس کا اظہار میں نے اپنے کالم “یہ طفلان خود معاملہ“ میں کیا تھا۔ یہ ایک انتہائی بے حکمت، بے ثمر اور طفلانہ مشق تھی اور مسلم لیگ (ن) صوبے کی حکمراں جماعت کے طور پر یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ ایسی قرارداد اس کے لئے کیسی مشکلات پیدا کرسکتی ہے چاہے وہ کتنی ہی معصوم اور بے ضرر کیوں نہ ہو۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) تینوں کے عزت مآب ارکان نے بصد جوش و خروش اس ”کارشر“ میں حصہ لیا لیکن تینوں جماعتوں کے قائدین اس قرارداد پر تبریٰ بھیج رہے ہیں۔

اس سارے کھیل میں کم از کم ایک جماعت کا کردار کھرے سونے کی طرح دمک رہا ہے اور اس کا نام ہے ”مسلم لیگ (ق)“ قرارداد کی منظوری کے اگلے ہی دن ، جماعت کے مرکزی قائدین آزادی صحافت کے پھریرے لہراتے سڑکوں پر نکل آئے اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ میڈیا کی طرف میلی نگاہ اٹھانے والوں کی آنکھیں پھوڑ ڈالیں گے۔ اگرچہ اسمبلی کے اندر میڈیا کے خلاف لاوہ اگلنے والوں میں ”ق“ کے ارکان پیش پیش تھے۔ قرارداد کی تیاری میں بھی انہوں نے سرگرم حصہ لیا۔ فلک شگاف ”ہاں“ میں ان کی آواز بھی شامل تھی۔ قرارداد پیش ہوتے وقت اور منظوری کے عمل کے دوران بھی انہوں نے واک آؤٹ کیا نہ احتجاج کی لے اٹھائی۔ جب اسپیکر نے اعلان کیا کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوگئی ہے تو بھی ”ق“ کے کسی رکن نے کھڑے ہو کر نہ کہا کہ ”جناب اسپیکر! آپ اسے متفقہ نہ کہیں کیونکہ ہمیں اس سے اختلاف ہے“۔ سب ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے، مصافحے اور معانقے کرتے فاتحانہ بانکپن سے یوں باہر نکلے جیسے وہ سری نگر پر سبز ہلالی پرچم لہرا آئے ہوں۔

مسلم لیگ (ق) کے عمائدین پورے طمطراق کے ساتھ میدان میں اترے ۔ مسلم لیگ (ن) کو نشانے پر دھرتے ہوئے اہل صحافت کو یقین دلایا کہ وہ ان کی آزادی کے تحفظ کے لئے جان کی بازی لگادیں گے“۔ صحافیوں کو اس سے بڑا سہارا ملا کیوں کہ مسلم لیگ (ق) ماضی میں بھی ایسا ہی مجاہدانہ کردار ادا کرتی رہی ہے اور اس کے اجلے دامن پر ایسا کوئی داغ نہیں جس پر وہ ندامت محسوس کرے۔ اگرچہ اس نے آمریت کے زچہ خانہ میں جنم لیا۔ سیاسی یتیموں کی پرورش کرنے والی معروف ایجنسیاں اس کی دایہ اور آیا بنیں۔ انہی کا دودھ پی کر وہ پروان چڑھی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اس نے ”آئین جوانمرداں حق گوئی و بے باکی“ کو ہمیشہ اپنے کردار کا جزو اعظم بنائے رکھا۔ البتہ کچھ ٹیکنیکل مجبوریاں اسے لاحق تھیں کیونکہ خوبصورت اور خوب سیرت ہونے کے باوصف وہ آمر وقت کے حرم کی کنیز تھی اور کنیزوں کی حق گوئی و بے باکی، معشوقانہ اداؤں میں دب کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دل میں آئین، جمہوریت اور صحافت کا بے پناہ عشق رکھنے کے باوجود وہ بعض اہم مواقع پر دلہن بنی بیٹھی رہی جب صحافی، وکلا اور پاکستان کے لوگ آمروقت کی توپوں کی زد میں تھے۔ یہ فنی طور پر مسلم لیگ (ق) کی حکومت تھی جب پرویز مشرف آئین، جمہوری اقدار، بنیادی حقوق اور آزادی صحافت پر پیہم مشق ستم کررہا تھا۔ جب اسے کچھ ٹی وی میزبانوں کی شکلیں یکایک بری لگنے لگیں اور فرمان صادر ہوا کہ انہیں فوراً آف ائر کردیا جائے۔ جب کئی معروف چینلز بند کردیئے گئے جب پمرا نامی ادارے نے سفاک قوانین کے ذریعے میڈیا کا گلا دبوچ لیا، جب کیبل آپریٹرز کے ذریعے گستاخ چینلز اور پروگراموں کو زنجیریں ڈال دی گئیں، جب اشتہارات کو جبر کے تیز دھار ہتھیار کے طور پر بروئے کار لاتے ہوئے خودسروں کی سرکوبی کردی گئی، جب چینلز کے دفاتر پر مسلح حملے کئے گئے، جب 12مئی 2007ء کو کئی کئی گھنٹے میڈیا دفاتر پر گولیاں برسائی گئیں، جب آزادی عدلیہ اور آزادی صحافت کے لئے مصروف احتجاج صحافیوں کے خون سے شاہراہ دستور لہو رنگ ہورہی تھی ، جب قدغن لگی کہ الیکٹرونک میڈیا احتجاجی تحریک کے جلسے جلوس نہ دکھائے، جب فرمان شاہی جاری ہوا کہ عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ نہ کی جائے، جب صحافیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جب اخبار نویسوں کی فہرستیں مرتب کرکے انہیں ہراساں کیا گیا، جب انہیں ملک دشمن اور غدار قرار دیا گیا اور جب کئی صحافی ہجرت پر مجبور کردیئے گئے۔ یہ سب کچھ مسلم لیگ (ق) کے عہد حکمرانی میں ہوا جب وزیراعظم کا تعلق بھی اسی جماعت سے تھا اور پارلیمینٹ میں بھی اس کی اکثریت تھی۔ وہ والہانہ خود سپردگی کے ساتھ آمر وقت کا دست و بازو بھی تھی اور زبان بھی۔ صدائے احتجاج تو بہت دور کی بات ہے، کسی ایک موقع پر بھی مسلم لیگ (ق) کے ہونٹوں میں جنبش نہ ہوئی۔ آج مسلم لیگ ہاؤس کے سامنے صف بستہ ہو کر نعرے لگانے والے عمائدین کی نگاہیں تب صرف دستر خوان پر مرکوز تھیں۔ 9مارچ 2007ء کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف مکروہ اقدام، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی داماں دریدگی، 12مئی کا قتل عام، 3نومبر کی شرمناک ایمرجنسی، ساٹھ سے زیادہ جج صاحبان کی فراغت، بال بچوں سمیت ان کی حراست، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی پر بہیمانہ تشدد، لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی خون ریزی، آئین کی چیرپھاڑ اور آمریت کا رقص ابلیس، یہ سب کچھ ہورہا تھا اور مسلم لیگ (ق) ایک ڈکٹیٹر کی زلف کا حسن اور آنکھ کا کاجل بنی ہوئی تھی۔ تب ایک دوبار وہ میخوں والے ڈنڈوں کے ساتھ سڑکوں پر ضرور آئی لیکن صحافت، عدلیہ اور جمہوریت کی ہمنوائی میں نہیں، آمر وقت کے شرمناک اقدامات کی تائید و حمایت میں۔

مسلم لیگ (ق) ہماری قومی سیاست کا دلچسپ مطالعہ ہے۔ چھ برس تک آمر کے اشاروں پر رقص کرنے اور اس کے حرم خاص کی شمع فروزاں بنے رہنے کے باوجود آج بھی سوال کیاجائے تو وہ ماتھے پر سوچ کی گہری لکیروں کا جال بنتے ہوئے کہتی ہے۔ ”کون تھا یہ مشرف؟ اور اگر تھا بھی تو ہمارا اس سے کیا واسطہ“۔ یہ امر ہم صحافیوں کیلئے تسکین قلب و جاں کا باعث ہے کہ بالآخر ایک ایسی جماعت ہمارے حق میں اٹھ کھڑی ہوئی ہے جو ہمیشہ آزادی صحافت اور روشن جمہوری اقدار کی پاسبان و نگہبان رہی ہے۔ گزشتہ روز میں نے پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے پوچھا ”مشرف کے وقت صحافت اور صحافیوں سے آپ کا یہ عشق کہاں تھا؟“ اس نے اپنے ہونٹوں پر ایک شریر سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا ”اس نے کوئی قرارداد تھوڑا ہی منظور کی تھی“۔

کاش اگلے دن مسلم لیگ (ق) کے سراپا احتجاج رہنماؤں کے دائیں ہاتھ شیخ رشید احمد اور بائیں ہاتھ عزیزی محمد علی درانی بھی کھڑے ہوتے۔ ایسا ہوتا تو محافظان صحافت اور محبان صحافیاں کے اس قبیلے کی آن بان کو چار چاند لگ جاتے۔ اور اگر کسی طرح چند گھنٹوں کے لئے پرویز مشرف کو بھی اس مظاہرے کی قیادت کے لئے بلالیا جاتا تو صحافت دشمن عناصر پہ ایسی ضرب لگتی کہ وہ کبھی سنبھل نہ پاتے۔

کشمیر - ناتمام - ہارون الرشید

اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے: جو جیا وہ دلیل سے جیا اور جو ہلاک ہوا ، وہ دلیل سے ہلاک ہوا۔کشمیر تو ایک دن سرخرو ہو کر رہے گا۔ سوال دوسرا ہے، ہم اہلِ پاکستان شرمسار ہوں گے یا کامران؟
اگر طاقت ہی سب کچھ ہوتی تو آدمی نہیں، شیر ،چیتے، ہاتھی اور گینڈے دنیا پر حکومت کرتے۔ جی نہیں، محض ذہنی قوت بھی غالب نہیں ہوتی۔ پرامن اور نمو پذیر اجتماعی حیات کے لیے بلند مقاصد اور اخلاقی اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مالی اور عسکری قوت فیصلہ کن ہو سکتی تو تاریخ عالمی طاقتوں کا قبرستان نہ ہوتی۔ کتنی سپر پاورز ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئی ہیں۔دوسری عالمگیر جنگ کے ہنگام جرمنی طوفان کی طرح اٹھا اور کرّہ ارض کے بڑے حصّے پر چھا گیا۔ اٹلی کا فاشسٹ حکمران مسولینی تو اس کے ساتھ تھا ہی، دوسرے ممالک بھی اتحادی ہو گئے لیکن خود اس کے ضمیر میں خود شکنی کے عوامل تھے۔ برطانیہ، فرانس اور امریکہ ہی نہیں بلکہ ان عوامل نے بھی ہٹلر اور مسولینی کو تباہ اور پامال کر ڈالا، حتیٰ کہ وہ عبرت کا نشان اور تاریخ کے لیے ایک کہانی ہو گئے۔
کمیونزم کی آندھی اس طرح اٹھی تھی کہ اقصائے عالم میں نگاہیں خیرہ ہو گئیں۔ سرمایہ دارانہ جبر کے خلاف نفرت کی رو اس کے ہم رکاب تھی۔ کیسا کیسا دانشور تھا اور دنیا بھر میں پھیلی ان کی کتنی ہی جماعتیں تھیِ ، جو بنی نوع انسان کو بتانے اور جتلانے میں لگی رہتی تھیں کہ یہی نظریہ اور یہی طرزِ زندگی آدمیت کا مستقبل ہے۔ آخری نتیجہ مگر کیا نکلا۔ اشتراکی تحریک کا آخری فائدہ یورپ اور امریکہ کے محنت کشوں کو پہنچا۔ بپھرے ہوئے محنت کشوں کے تیور انہوں نے پڑھ لیے اگرچہ پوری طرح تو انصاف پر وہ مائل نہ ہوئے اور استحصال کے بہت سے قرینے اب بھی کارفرما ہیں لیکن سوشل سیکیورٹی کا تصوّر اسی سے پھوٹا۔ کسانوں اور مزدوروں کے لیے زندگی قدرے سہل ہونے لگی۔
اہم ترین چیز انسانی فطرت کا ادراک ہے۔ کمیونزم کے معمار جو بات نہ سمجھ سکے، وہ یہ ہے کہ آدمی کی سرشت کبھی نہیں بدلتی۔ جو بھی اجتماعی نظام وضع کرنا ہو، اس میں معاشرے کی اجتماعی امنگوں اور آدمی کی جبلّت کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ کمیونزم نے خون چاٹا اور خاک آلود ہوا۔ صرف افغانستان میں نہیں بلکہ خود روس اور چین میں بھی۔ روس تو خود سوشلزم ہی سے تائب ہو گیا۔ چین میں ہرچند کہ بظاہر وہ موجود ہے مگر نہیں ہے۔ ۔ایک جماعتی نظام برقرار ہے، ڈسپلن کی پابندیاں بہت سختی سے نافذ کی جاتی ہیں، حکومت آج بھی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں ہے لیکن انفرادی ملکیت کا حق خوش دلی سے تسلیم کر لیا گیا ۔ چین اور روس مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام سے متصادم نہیں۔ اب کیوبا اور کوریا جیسے چند ملک باقی ہیں اور بتدریج تحلیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ماؤزے تنگ نے ایک کروڑ اور لینن سے لے کر سٹالن تک سویت حکمرانوں نے چار کروڑ انسانوں کا خون بہایا مگر ناکام اور نامراد۔ کوئی ایسا نظام کبھی کامیاب نہ ہوگا، جسے ملک کے مکینوں کی تائید حاصل نہ ہو۔ ایرانی انقلاب کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کی گرفت، امریکی استعمار ، مغرب کی مکمل پشت پناہی اور تیل کی بے پناہ دولت۔ ایرانیوں نے مگر علی شریعتی کی بات سنی اور امام خمینی کو اپنا سیاسی اور فکری پیشوا تسلیم کیا۔ شہنشاہیت اور امریکہ کے خلاف بائیں بازو کی تو وہ پارٹی کی قربانیاں کم نہ تھیں۔ مشکل مگر یہ تھی کہ سوشلسٹ جماعت کی ترجیحات ایران کے اجتماعی مزاج سے ہم آہنگ نہ تھیں۔ ہر قوم کی ایک تاریخ ہوتی ہے، ایک مزاج ، تمدن ، عقیدہ اور تہذیب۔ تمام سیاسی اور سماجی ادارے یعنی ہیئت حاکمہ، اس مزاج اوراجتماعی لاشعور کو ملحوظ رکھ کر ہی تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔
1979ء کے آخری ہفتے میں جب سویت یونین افغانستان پہ چڑھ دوڑا تو پاکستان میں بائیں بازو کے دانشوروں نے ہمیں بتایا کہ وہ کبھی نہ واپس جانے کے لیے آیا ہے۔ روس کی ساڑھے تین سو سالہ تاریخ یہی ہے کہ وہ کبھی پسپا نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ سوشلزم ہی دنیا کا مستقبل ہے ۔ یہ ہوا میں کہی جانے والی ایک بات نہ تھی۔ انہی دنوں امریکی جریدے نیوز ویک میں شائع ہونے والا ایک سروے اچھی طرح سے یاد ہے۔ 70فیصد امریکی شہریوں کا خیال یہ تھا کہ سوشلزم فروغ پذیر ہے اور دنیا کے مزید ممالک اور مزید اقوام اس کی نذر ہو جائیں گی۔ بائیں بازو کے دانشور ہی نہیں، ان کے ہمنوا سیاسی کارکن بھی اس تصور کا مذاق اڑاتے تھے کہ سرخ افواج کی واپسی ممکن ہے۔ جنرل محمد ضیا ء الحق اقتدار میں تھے اور ظاہر ہے کہ فعال طبقات ان کے مخالف تھے۔ ضیاء الحق نامقبول نہ تھے، جیسا کہ عام طور پر تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے مخالفین اور ان میں اے این پی اور جمعیت علماءِ اسلام کے ووٹر شامل تھے۔۔۔اگر خوش دلی نہیں تو نیم دلی سے ان کی پشت پر کھڑے تھے۔ سیاسی کارکن ، وکلاء ، اساتذہ ، دانشوروں اور اخبار نویسوں کی اکثریت مگر مخالف تھی اور ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت اکثر سیاسی جماعتیں کہ ان کا کردار باقی نہ رہا تھا۔ بایاں بازو متحرک بھی بہت تھا اور بڑی سیاسی جماعتوں کی تائید سے اس کے حوصلے بلند تھے۔ رائے عامہ میں افغان عوام کی جدوجہد آزادی کی تائید مگر ستر فیصد سے زیادہ رہی اور بدترین حالات میں بھی 60فیصد سے کبھی کم نہ ہوئی۔ کہانیاں کہنے والے آج تک یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان کی فوجی حکومت نے امریکہ اور دوسری اقوام کی تائید سے افغان انقلاب اور سویت افواج کو پست کرڈالا۔ ایک مضحکہ خیز اور احمقانہ مفروضہ۔ مالی اور اسلحی تعاون مددگار تو تھا مگر زندگیا ں کس نے قربان کیں؟ اس مفروضے کو اگر مان لیا جائے تو ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ آج جب ساری دنیا افغانستان پر یلغار کرنے والے امریکہ کے ساتھ ہے، حتیٰ کہ پاکستان بھی۔ 22ممالک کی افواج انکل سام کے شانہ بشانہ ہیں تو وہ ناکامی سے دوچار کیوں ہے۔ پسپائی کے لیے آبرومندانہ راستے کا متلاشی کیوں؟ امریکی قیادت میں اختلافات ہیں۔ امریکی رہنما بددلی اور چڑچڑے پن کا شکار ہیں اور راستہ انہیں سجھائی نہیں دیتا۔ یہ بہر حال آشکا رہے کہ انہیں واپس جانا ہے۔ ۔۔اور یہ ان پر ہے کہ قدرے آبرومندی یا تذلیل کے ساتھ۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اقلیت کبھی تادیر اکثریت پر حکومت نہیں کرتی۔ یہ بھی کہ عوامی تحریکیں، جن کے مقاصد دلوں اور دماغوں میں جڑ پکڑ لیں، کبھی ناکام نہیں ہوا کرتیں، لازماً سرخرو ہوتی ہیں۔ ثالثاً یہ کہ جب ایک عظیم مقصد سامنے ہو تو جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں ہوتی۔۔۔ہم نے سمجھوتہ کرکے کشمیر کو بھلا دینے کی کوشش کی لیکن یہ آگ پھر سے سلگ اٹھی ہے اور شعلے بہت بلند ہیں۔ ہمارے داخلی مسائل اپنی جگہ، پاکستانی حکومت، عسکری قیادت، اشرافیہ اور دانشوروں کو تاریخی تجربات کی روشنی میں کشمیر کی صورت حال پر غور کرنا چاہئے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ کر لینی چاہئیں۔ کبوتر کے آنکھیں بند کر لینے سے بلّی غائب اور فنا نہیں ہو جاتی۔ طاقت کی اپنی ایک منطق ہو تی ہے لیکن منطق کی اپنی قوت ہوتی ہے اور اجتماعی انسانی تجربہ یہ کہتا ہے کہ دلیل کی قوت ، اندھی قوت کو آخر کار شکست سے دوچار کرتی ہے۔ اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے: جو جیا وہ دلیل سے جیا اور جو ہلاک ہوا ، وہ دلیل سے ہلاک ہوا۔کشمیر تو ایک دن سرخرو ہو کر رہے گا۔ سوال دوسرا ہے ، ہم اہلِ پاکستان شرمسار ہوں گے یا کامران؟