اونٹ کی کوئی کل سیدھی ہو نہ ہو، وہ بہرطور کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ ہی جاتا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے بطن سے کسی بھی وقت ایک نئی قرارداد جنم لے سکتی ہے۔ ایسا اس لئے بھی ضروری ہے کہ بقول سید مودودی، غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی ضرور انڈے بچے دیتی اور بسااوقات تو دیتی ہی چلی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ایسی کثیر العیال غلطیوں کی تعداد حدوشمار سے باہر ہے۔ ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر اور نامور صحافی نے فون کرکے تقریباً سرزنش کے انداز میں پوچھا۔ ”تم نے یہ قرارداد پڑھی بھی ہے؟“ میں نے تسلیم کیا کہ میں نے قرار داد کا بغور مطالعہ نہیں کیا تھا۔ اب یہ متن میرے سامنے ہے لیکن میں اپنی اس رائے پر قائم ہوں جس کا اظہار میں نے اپنے کالم “یہ طفلان خود معاملہ“ میں کیا تھا۔ یہ ایک انتہائی بے حکمت، بے ثمر اور طفلانہ مشق تھی اور مسلم لیگ (ن) صوبے کی حکمراں جماعت کے طور پر یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ ایسی قرارداد اس کے لئے کیسی مشکلات پیدا کرسکتی ہے چاہے وہ کتنی ہی معصوم اور بے ضرر کیوں نہ ہو۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) تینوں کے عزت مآب ارکان نے بصد جوش و خروش اس ”کارشر“ میں حصہ لیا لیکن تینوں جماعتوں کے قائدین اس قرارداد پر تبریٰ بھیج رہے ہیں۔
اس سارے کھیل میں کم از کم ایک جماعت کا کردار کھرے سونے کی طرح دمک رہا ہے اور اس کا نام ہے ”مسلم لیگ (ق)“ قرارداد کی منظوری کے اگلے ہی دن ، جماعت کے مرکزی قائدین آزادی صحافت کے پھریرے لہراتے سڑکوں پر نکل آئے اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ میڈیا کی طرف میلی نگاہ اٹھانے والوں کی آنکھیں پھوڑ ڈالیں گے۔ اگرچہ اسمبلی کے اندر میڈیا کے خلاف لاوہ اگلنے والوں میں ”ق“ کے ارکان پیش پیش تھے۔ قرارداد کی تیاری میں بھی انہوں نے سرگرم حصہ لیا۔ فلک شگاف ”ہاں“ میں ان کی آواز بھی شامل تھی۔ قرارداد پیش ہوتے وقت اور منظوری کے عمل کے دوران بھی انہوں نے واک آؤٹ کیا نہ احتجاج کی لے اٹھائی۔ جب اسپیکر نے اعلان کیا کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوگئی ہے تو بھی ”ق“ کے کسی رکن نے کھڑے ہو کر نہ کہا کہ ”جناب اسپیکر! آپ اسے متفقہ نہ کہیں کیونکہ ہمیں اس سے اختلاف ہے“۔ سب ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے، مصافحے اور معانقے کرتے فاتحانہ بانکپن سے یوں باہر نکلے جیسے وہ سری نگر پر سبز ہلالی پرچم لہرا آئے ہوں۔
مسلم لیگ (ق) کے عمائدین پورے طمطراق کے ساتھ میدان میں اترے ۔ مسلم لیگ (ن) کو نشانے پر دھرتے ہوئے اہل صحافت کو یقین دلایا کہ وہ ان کی آزادی کے تحفظ کے لئے جان کی بازی لگادیں گے“۔ صحافیوں کو اس سے بڑا سہارا ملا کیوں کہ مسلم لیگ (ق) ماضی میں بھی ایسا ہی مجاہدانہ کردار ادا کرتی رہی ہے اور اس کے اجلے دامن پر ایسا کوئی داغ نہیں جس پر وہ ندامت محسوس کرے۔ اگرچہ اس نے آمریت کے زچہ خانہ میں جنم لیا۔ سیاسی یتیموں کی پرورش کرنے والی معروف ایجنسیاں اس کی دایہ اور آیا بنیں۔ انہی کا دودھ پی کر وہ پروان چڑھی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اس نے ”آئین جوانمرداں حق گوئی و بے باکی“ کو ہمیشہ اپنے کردار کا جزو اعظم بنائے رکھا۔ البتہ کچھ ٹیکنیکل مجبوریاں اسے لاحق تھیں کیونکہ خوبصورت اور خوب سیرت ہونے کے باوصف وہ آمر وقت کے حرم کی کنیز تھی اور کنیزوں کی حق گوئی و بے باکی، معشوقانہ اداؤں میں دب کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دل میں آئین، جمہوریت اور صحافت کا بے پناہ عشق رکھنے کے باوجود وہ بعض اہم مواقع پر دلہن بنی بیٹھی رہی جب صحافی، وکلا اور پاکستان کے لوگ آمروقت کی توپوں کی زد میں تھے۔ یہ فنی طور پر مسلم لیگ (ق) کی حکومت تھی جب پرویز مشرف آئین، جمہوری اقدار، بنیادی حقوق اور آزادی صحافت پر پیہم مشق ستم کررہا تھا۔ جب اسے کچھ ٹی وی میزبانوں کی شکلیں یکایک بری لگنے لگیں اور فرمان صادر ہوا کہ انہیں فوراً آف ائر کردیا جائے۔ جب کئی معروف چینلز بند کردیئے گئے جب پمرا نامی ادارے نے سفاک قوانین کے ذریعے میڈیا کا گلا دبوچ لیا، جب کیبل آپریٹرز کے ذریعے گستاخ چینلز اور پروگراموں کو زنجیریں ڈال دی گئیں، جب اشتہارات کو جبر کے تیز دھار ہتھیار کے طور پر بروئے کار لاتے ہوئے خودسروں کی سرکوبی کردی گئی، جب چینلز کے دفاتر پر مسلح حملے کئے گئے، جب 12مئی 2007ء کو کئی کئی گھنٹے میڈیا دفاتر پر گولیاں برسائی گئیں، جب آزادی عدلیہ اور آزادی صحافت کے لئے مصروف احتجاج صحافیوں کے خون سے شاہراہ دستور لہو رنگ ہورہی تھی ، جب قدغن لگی کہ الیکٹرونک میڈیا احتجاجی تحریک کے جلسے جلوس نہ دکھائے، جب فرمان شاہی جاری ہوا کہ عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ نہ کی جائے، جب صحافیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جب اخبار نویسوں کی فہرستیں مرتب کرکے انہیں ہراساں کیا گیا، جب انہیں ملک دشمن اور غدار قرار دیا گیا اور جب کئی صحافی ہجرت پر مجبور کردیئے گئے۔ یہ سب کچھ مسلم لیگ (ق) کے عہد حکمرانی میں ہوا جب وزیراعظم کا تعلق بھی اسی جماعت سے تھا اور پارلیمینٹ میں بھی اس کی اکثریت تھی۔ وہ والہانہ خود سپردگی کے ساتھ آمر وقت کا دست و بازو بھی تھی اور زبان بھی۔ صدائے احتجاج تو بہت دور کی بات ہے، کسی ایک موقع پر بھی مسلم لیگ (ق) کے ہونٹوں میں جنبش نہ ہوئی۔ آج مسلم لیگ ہاؤس کے سامنے صف بستہ ہو کر نعرے لگانے والے عمائدین کی نگاہیں تب صرف دستر خوان پر مرکوز تھیں۔ 9مارچ 2007ء کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف مکروہ اقدام، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی داماں دریدگی، 12مئی کا قتل عام، 3نومبر کی شرمناک ایمرجنسی، ساٹھ سے زیادہ جج صاحبان کی فراغت، بال بچوں سمیت ان کی حراست، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی پر بہیمانہ تشدد، لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی خون ریزی، آئین کی چیرپھاڑ اور آمریت کا رقص ابلیس، یہ سب کچھ ہورہا تھا اور مسلم لیگ (ق) ایک ڈکٹیٹر کی زلف کا حسن اور آنکھ کا کاجل بنی ہوئی تھی۔ تب ایک دوبار وہ میخوں والے ڈنڈوں کے ساتھ سڑکوں پر ضرور آئی لیکن صحافت، عدلیہ اور جمہوریت کی ہمنوائی میں نہیں، آمر وقت کے شرمناک اقدامات کی تائید و حمایت میں۔
مسلم لیگ (ق) ہماری قومی سیاست کا دلچسپ مطالعہ ہے۔ چھ برس تک آمر کے اشاروں پر رقص کرنے اور اس کے حرم خاص کی شمع فروزاں بنے رہنے کے باوجود آج بھی سوال کیاجائے تو وہ ماتھے پر سوچ کی گہری لکیروں کا جال بنتے ہوئے کہتی ہے۔ ”کون تھا یہ مشرف؟ اور اگر تھا بھی تو ہمارا اس سے کیا واسطہ“۔ یہ امر ہم صحافیوں کیلئے تسکین قلب و جاں کا باعث ہے کہ بالآخر ایک ایسی جماعت ہمارے حق میں اٹھ کھڑی ہوئی ہے جو ہمیشہ آزادی صحافت اور روشن جمہوری اقدار کی پاسبان و نگہبان رہی ہے۔ گزشتہ روز میں نے پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے پوچھا ”مشرف کے وقت صحافت اور صحافیوں سے آپ کا یہ عشق کہاں تھا؟“ اس نے اپنے ہونٹوں پر ایک شریر سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا ”اس نے کوئی قرارداد تھوڑا ہی منظور کی تھی“۔
کاش اگلے دن مسلم لیگ (ق) کے سراپا احتجاج رہنماؤں کے دائیں ہاتھ شیخ رشید احمد اور بائیں ہاتھ عزیزی محمد علی درانی بھی کھڑے ہوتے۔ ایسا ہوتا تو محافظان صحافت اور محبان صحافیاں کے اس قبیلے کی آن بان کو چار چاند لگ جاتے۔ اور اگر کسی طرح چند گھنٹوں کے لئے پرویز مشرف کو بھی اس مظاہرے کی قیادت کے لئے بلالیا جاتا تو صحافت دشمن عناصر پہ ایسی ضرب لگتی کہ وہ کبھی سنبھل نہ پاتے۔