Wednesday, July 14, 2010

کشمیر - ناتمام - ہارون الرشید

اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے: جو جیا وہ دلیل سے جیا اور جو ہلاک ہوا ، وہ دلیل سے ہلاک ہوا۔کشمیر تو ایک دن سرخرو ہو کر رہے گا۔ سوال دوسرا ہے، ہم اہلِ پاکستان شرمسار ہوں گے یا کامران؟
اگر طاقت ہی سب کچھ ہوتی تو آدمی نہیں، شیر ،چیتے، ہاتھی اور گینڈے دنیا پر حکومت کرتے۔ جی نہیں، محض ذہنی قوت بھی غالب نہیں ہوتی۔ پرامن اور نمو پذیر اجتماعی حیات کے لیے بلند مقاصد اور اخلاقی اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مالی اور عسکری قوت فیصلہ کن ہو سکتی تو تاریخ عالمی طاقتوں کا قبرستان نہ ہوتی۔ کتنی سپر پاورز ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئی ہیں۔دوسری عالمگیر جنگ کے ہنگام جرمنی طوفان کی طرح اٹھا اور کرّہ ارض کے بڑے حصّے پر چھا گیا۔ اٹلی کا فاشسٹ حکمران مسولینی تو اس کے ساتھ تھا ہی، دوسرے ممالک بھی اتحادی ہو گئے لیکن خود اس کے ضمیر میں خود شکنی کے عوامل تھے۔ برطانیہ، فرانس اور امریکہ ہی نہیں بلکہ ان عوامل نے بھی ہٹلر اور مسولینی کو تباہ اور پامال کر ڈالا، حتیٰ کہ وہ عبرت کا نشان اور تاریخ کے لیے ایک کہانی ہو گئے۔
کمیونزم کی آندھی اس طرح اٹھی تھی کہ اقصائے عالم میں نگاہیں خیرہ ہو گئیں۔ سرمایہ دارانہ جبر کے خلاف نفرت کی رو اس کے ہم رکاب تھی۔ کیسا کیسا دانشور تھا اور دنیا بھر میں پھیلی ان کی کتنی ہی جماعتیں تھیِ ، جو بنی نوع انسان کو بتانے اور جتلانے میں لگی رہتی تھیں کہ یہی نظریہ اور یہی طرزِ زندگی آدمیت کا مستقبل ہے۔ آخری نتیجہ مگر کیا نکلا۔ اشتراکی تحریک کا آخری فائدہ یورپ اور امریکہ کے محنت کشوں کو پہنچا۔ بپھرے ہوئے محنت کشوں کے تیور انہوں نے پڑھ لیے اگرچہ پوری طرح تو انصاف پر وہ مائل نہ ہوئے اور استحصال کے بہت سے قرینے اب بھی کارفرما ہیں لیکن سوشل سیکیورٹی کا تصوّر اسی سے پھوٹا۔ کسانوں اور مزدوروں کے لیے زندگی قدرے سہل ہونے لگی۔
اہم ترین چیز انسانی فطرت کا ادراک ہے۔ کمیونزم کے معمار جو بات نہ سمجھ سکے، وہ یہ ہے کہ آدمی کی سرشت کبھی نہیں بدلتی۔ جو بھی اجتماعی نظام وضع کرنا ہو، اس میں معاشرے کی اجتماعی امنگوں اور آدمی کی جبلّت کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ کمیونزم نے خون چاٹا اور خاک آلود ہوا۔ صرف افغانستان میں نہیں بلکہ خود روس اور چین میں بھی۔ روس تو خود سوشلزم ہی سے تائب ہو گیا۔ چین میں ہرچند کہ بظاہر وہ موجود ہے مگر نہیں ہے۔ ۔ایک جماعتی نظام برقرار ہے، ڈسپلن کی پابندیاں بہت سختی سے نافذ کی جاتی ہیں، حکومت آج بھی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں ہے لیکن انفرادی ملکیت کا حق خوش دلی سے تسلیم کر لیا گیا ۔ چین اور روس مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام سے متصادم نہیں۔ اب کیوبا اور کوریا جیسے چند ملک باقی ہیں اور بتدریج تحلیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ماؤزے تنگ نے ایک کروڑ اور لینن سے لے کر سٹالن تک سویت حکمرانوں نے چار کروڑ انسانوں کا خون بہایا مگر ناکام اور نامراد۔ کوئی ایسا نظام کبھی کامیاب نہ ہوگا، جسے ملک کے مکینوں کی تائید حاصل نہ ہو۔ ایرانی انقلاب کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کی گرفت، امریکی استعمار ، مغرب کی مکمل پشت پناہی اور تیل کی بے پناہ دولت۔ ایرانیوں نے مگر علی شریعتی کی بات سنی اور امام خمینی کو اپنا سیاسی اور فکری پیشوا تسلیم کیا۔ شہنشاہیت اور امریکہ کے خلاف بائیں بازو کی تو وہ پارٹی کی قربانیاں کم نہ تھیں۔ مشکل مگر یہ تھی کہ سوشلسٹ جماعت کی ترجیحات ایران کے اجتماعی مزاج سے ہم آہنگ نہ تھیں۔ ہر قوم کی ایک تاریخ ہوتی ہے، ایک مزاج ، تمدن ، عقیدہ اور تہذیب۔ تمام سیاسی اور سماجی ادارے یعنی ہیئت حاکمہ، اس مزاج اوراجتماعی لاشعور کو ملحوظ رکھ کر ہی تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔
1979ء کے آخری ہفتے میں جب سویت یونین افغانستان پہ چڑھ دوڑا تو پاکستان میں بائیں بازو کے دانشوروں نے ہمیں بتایا کہ وہ کبھی نہ واپس جانے کے لیے آیا ہے۔ روس کی ساڑھے تین سو سالہ تاریخ یہی ہے کہ وہ کبھی پسپا نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ سوشلزم ہی دنیا کا مستقبل ہے ۔ یہ ہوا میں کہی جانے والی ایک بات نہ تھی۔ انہی دنوں امریکی جریدے نیوز ویک میں شائع ہونے والا ایک سروے اچھی طرح سے یاد ہے۔ 70فیصد امریکی شہریوں کا خیال یہ تھا کہ سوشلزم فروغ پذیر ہے اور دنیا کے مزید ممالک اور مزید اقوام اس کی نذر ہو جائیں گی۔ بائیں بازو کے دانشور ہی نہیں، ان کے ہمنوا سیاسی کارکن بھی اس تصور کا مذاق اڑاتے تھے کہ سرخ افواج کی واپسی ممکن ہے۔ جنرل محمد ضیا ء الحق اقتدار میں تھے اور ظاہر ہے کہ فعال طبقات ان کے مخالف تھے۔ ضیاء الحق نامقبول نہ تھے، جیسا کہ عام طور پر تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے مخالفین اور ان میں اے این پی اور جمعیت علماءِ اسلام کے ووٹر شامل تھے۔۔۔اگر خوش دلی نہیں تو نیم دلی سے ان کی پشت پر کھڑے تھے۔ سیاسی کارکن ، وکلاء ، اساتذہ ، دانشوروں اور اخبار نویسوں کی اکثریت مگر مخالف تھی اور ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت اکثر سیاسی جماعتیں کہ ان کا کردار باقی نہ رہا تھا۔ بایاں بازو متحرک بھی بہت تھا اور بڑی سیاسی جماعتوں کی تائید سے اس کے حوصلے بلند تھے۔ رائے عامہ میں افغان عوام کی جدوجہد آزادی کی تائید مگر ستر فیصد سے زیادہ رہی اور بدترین حالات میں بھی 60فیصد سے کبھی کم نہ ہوئی۔ کہانیاں کہنے والے آج تک یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان کی فوجی حکومت نے امریکہ اور دوسری اقوام کی تائید سے افغان انقلاب اور سویت افواج کو پست کرڈالا۔ ایک مضحکہ خیز اور احمقانہ مفروضہ۔ مالی اور اسلحی تعاون مددگار تو تھا مگر زندگیا ں کس نے قربان کیں؟ اس مفروضے کو اگر مان لیا جائے تو ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ آج جب ساری دنیا افغانستان پر یلغار کرنے والے امریکہ کے ساتھ ہے، حتیٰ کہ پاکستان بھی۔ 22ممالک کی افواج انکل سام کے شانہ بشانہ ہیں تو وہ ناکامی سے دوچار کیوں ہے۔ پسپائی کے لیے آبرومندانہ راستے کا متلاشی کیوں؟ امریکی قیادت میں اختلافات ہیں۔ امریکی رہنما بددلی اور چڑچڑے پن کا شکار ہیں اور راستہ انہیں سجھائی نہیں دیتا۔ یہ بہر حال آشکا رہے کہ انہیں واپس جانا ہے۔ ۔۔اور یہ ان پر ہے کہ قدرے آبرومندی یا تذلیل کے ساتھ۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اقلیت کبھی تادیر اکثریت پر حکومت نہیں کرتی۔ یہ بھی کہ عوامی تحریکیں، جن کے مقاصد دلوں اور دماغوں میں جڑ پکڑ لیں، کبھی ناکام نہیں ہوا کرتیں، لازماً سرخرو ہوتی ہیں۔ ثالثاً یہ کہ جب ایک عظیم مقصد سامنے ہو تو جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں ہوتی۔۔۔ہم نے سمجھوتہ کرکے کشمیر کو بھلا دینے کی کوشش کی لیکن یہ آگ پھر سے سلگ اٹھی ہے اور شعلے بہت بلند ہیں۔ ہمارے داخلی مسائل اپنی جگہ، پاکستانی حکومت، عسکری قیادت، اشرافیہ اور دانشوروں کو تاریخی تجربات کی روشنی میں کشمیر کی صورت حال پر غور کرنا چاہئے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ کر لینی چاہئیں۔ کبوتر کے آنکھیں بند کر لینے سے بلّی غائب اور فنا نہیں ہو جاتی۔ طاقت کی اپنی ایک منطق ہو تی ہے لیکن منطق کی اپنی قوت ہوتی ہے اور اجتماعی انسانی تجربہ یہ کہتا ہے کہ دلیل کی قوت ، اندھی قوت کو آخر کار شکست سے دوچار کرتی ہے۔ اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے: جو جیا وہ دلیل سے جیا اور جو ہلاک ہوا ، وہ دلیل سے ہلاک ہوا۔کشمیر تو ایک دن سرخرو ہو کر رہے گا۔ سوال دوسرا ہے ، ہم اہلِ پاکستان شرمسار ہوں گے یا کامران؟

No comments:

Post a Comment